اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے برطانوی دارالحکومت لندن سے العالم تیلی ویژن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عوام کی اکثریت یمن میں سعودی افواج کی مداخلت سے ناراض ہے اور اس مداخلت کو غیر معقول، غیر منطقی اور بلاجواز سمجھتے ہیں۔
انھوں نے کہا سعودی مداخلت کے بعد یمن کی اندرونی بحران کا بھیانک چہرہ مزید نمایاں ہوچکا ہے سعودی مداخلت پر یمن کی حکومت کی خاموشی کی بنا پر یمنی عوام اس وقت نظام حکومت کی تبدیلی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔
فؤاد ابراہيم نے کہا: سعودی افواج ابھی تک جبل الدخان کو یمنی مجاہدین سے نہیں چھڑا سکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یمنی مجاہدین جبل الدخان پر قبضہ جاری نہیں رکھنا چاہتے مگر افسوس کا مقام ہے کہ یہ علاقہ ان کے ٹھکانوں سمیت بے گناہ شیعہ عوام پر گولہ باری کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور اب تو سعودی عرب نے یمن پر حملہ کرکے یمن کے تمام عوام کی ناراضگی مول لی ہے۔۔۔ سعودی اور یمنی حکمران یمن میں امن کے امکانات معدوم کرنے برابر کے شریک ہیں اور وہ ہزاروں انسانوں کے قتل عام اور لاکھوں افراد کے بی گھر ہونے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یمن سیاسی بحران میں ڈوبا ہوا ہے اور اس وقت یمن میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور اس وقت یمنی حکمران اپنی سرزمین کے بعض حصوں پر مسلط رہنا چاہتے ہیں کیونکہ یمنی حکمرانوں کی مخالفت صرف حوثیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس ملک کی پوری آبادی شمال سے جنوب تک، آزادی نہ ہونے، املاک و اموال کی بلاجواز ضبطیوں اور مخالف سیاستدانوں کے قتل کی وارداتوں کی بنا پر نظام حکومت کے خلاف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ـ جو ایک ثالث قوت کے عنوان سے یمن میں مثبت کردار ادا کرسکتا تھا ـ اس وقت تنازعے کے ایک فریق کی صورت اختیار کرگیا ہے اور یمنی عوام کو چاہئے کہ وہ مل کر سعودی عرب کی مداخلت سے رونما ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کریں۔